سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3979 ترقیم الرسالہ : -- 4048
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ، وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ، وَجَازَ طَلاقُهُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے اور وہ اس پر ایک عادل گواہ بھی پیش کر دے، تو شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے، تو گواہ کی گواہی کالعدم قرار دی جائے گی اور اگر وہ (حلف اٹھانے سے) انکار کر دیتا ہے، تو اس کا انکار دوسرے گواہ کا قائم مقام ہو گا اور طلاق جائز (یعنی واقع) شمار ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 4048]
ترقیم العلمیہ: 3979
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15327، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4047، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11641، 11644، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12625، 18866، 18870، 18901، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9638»
«»
«»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4048 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي