سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. كتاب عمر رضى الله عنه إلى أبى موسى الأشعري
باب: حضرت عمر (رض) کا حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے نام مکتوب
ترقیم العلمیہ : 4402 ترقیم الرسالہ : -- 4482
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي كَانَتْ فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْحَضْرَمِيِّ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لا، قَالَ: يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ وَلا يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلا ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ بِهِ لِيُحَلِّفَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهُ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ" .
علقمہ بن وائل اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: (حضر موت) سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے، وہ زمین میرے والد کی تھی۔ اس شخص نے کہا: وہ زمین میری ہے اور میرے پاس موجود ہے، میں اس میں زراعت کرتا ہوں، اس شخص کا اس زمین میں کوئی حق نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حضرمی سے دریافت کیا: ”تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟“ تو اس نے عرض کی کہ نہیں ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ دوسرا فریق قسم اٹھائے گا۔“ اس حضرمی نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! یہ اس چیز کی پروا نہیں کرے گا کہ یہ کیا قسم اٹھا رہا ہے؟ کیونکہ یہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتا نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہی صورت ہے۔“ پھر اس شخص نے قسم اٹھائی، جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے دوسرے شخص کے مال کی اس لیے قسم اٹھائی ہے، تاکہ اسے ظلم کے طور پر ہڑپ کرے، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4482]
ترقیم العلمیہ: 4402
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5074، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5946، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3245، 3623، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1340، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4482، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19165، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22585»
الرواة الحديث:
علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي