سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب ذبح الشاة المغصوبة
باب: شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4678 ترقیم الرسالہ : -- 4763
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُوصِي الْحَافِرَ، قَالَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَلَقَّاهُ دَاعِي امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: إِنَّ فُلانَةَ تَدْعُوكَ وَأَصْحَابَكَ، قَالَ: فَأَتَاهَا فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ أُتِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ فَبَيْنَا هُوَ يَأْكُلُ إِذْ كَفَّ يَدَهُ، قَالَ: وَقَدْ كُنَّا جَلَسْنَا بِمَجَالِسِ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلُوكُ أَكَلْتُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ يَدَ ابْنِهِ حَتَّى يَرْمِيَ الْعِرْقَ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا، قَالَ: فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ أَطْلُبُ شَاةً فَلَمْ أُصِبْ، فَبَلَغَنِي أَنَّ جَارًا لِي اشْتَرَى شَاةً فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَنَهَى، فَلَمْ نَقْدِرُ عَلَيْهِ فَبَعَثَتْ بِهَا امْرَأَتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطْعِمُوهَا الأُسَارَى" .
عاصم بن کلیب انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے، ہم قبر تک آ گئے، میں نے توجہ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کھودنے والے کو یہ ہدایت کر رہے تھے: ”سر اور پاؤں کی طرف سے قبر کو کھلا کر دو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس تشریف لا رہے تھے تو قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی طرف سے دعوت دینے والا فرد آپ کے سامنے آیا۔ اس نے عرض کی: فلاں خاتون نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دعوت دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے ہاں تشریف لے گئے، جب سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا، لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھا دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا، اس دوران آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں بچے اپنے والد کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ہمارے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کھائے ہوئے کو الٹ دیا ہے، تو ان سب افراد نے اپنے بچوں کے ہاتھ پر مار کے ان کے ہاتھ میں موجود بوٹیوں کو گرا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یوں لگا ہے کہ اس بکری کا گوشت اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے۔“ تو اس خاتون نے پیغام بھیجوا دیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری تلاش کرنے کے لیے کسی شخص کو بقیع کی طرف بھیجا تھا، لیکن اسے وہ بکری نہیں مل سکی۔ مجھے پتا چلا کہ میرے ہمسائے نے بھی ایک بکری خریدی ہے، تو میں نے اسے پیغام بھیجا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ ہم اسے حاصل نہیں کر سکے، پھر اس بکری کو اس شخص کی بیوی نے بھجوا دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قیدیوں کو کھلا دو۔“ [سنن الدارقطني/ الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك/حدیث: 4763]
ترقیم العلمیہ: 4678
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3332، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6857،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4763، 4764، 4765، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22945»
الرواة الحديث:
كليب بن شهاب الجرمي ← اسم مبهم