سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب ذبح الشاة المغصوبة
باب: شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4689 ترقیم الرسالہ : -- 4774
حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَنَّهُ اشْتَكَى، فَبَعَثَ لَهُ أَنْ يَسْتَنْقِعَ فِي أَلْبَانِ الأُتُنِ وَمَرَقِهَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ" .
مجزأة بن زاہر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہیں کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ پیغام بھیجا کہ وہ گدھی کے دودھ کو اور رش وربے کو (دوا کے طور پر) استعمال کریں، لیکن انہیں یہ کھانا (یا دوا) پسند نہیں آیا۔ [سنن الدارقطني/ الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك/حدیث: 4774]
ترقیم العلمیہ: 4689
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19529، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4774، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17142، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24111»
الرواة الحديث:
مجزأة بن زاهر الأسلمي ← زاهر بن الأسود الأسلمي