علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
56. باب صفة ما ينقض الوضوء وما روي فى الملامسة والقبلة
باب: ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 487 ترقیم الرسالہ : -- 495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" . قَالَ عُرْوَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ؟ فَضَحِكَتْ. وَقَالَ ابْنُ مَالَجَ:" يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ"، قُلْتُ: مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ؟ فَضَحِكَتْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے اور پھر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
ترقیم العلمیہ: 487
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 170، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 155، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 178، 179، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 86، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 502، 503، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 484، 485، 486، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24967»
«قال ابن عدي: لا أعلم رواه عن منصور غير سعيد بن بشير، الكامل في الضعفاء: (4 / 412)»
«قال ابن عدي: لا أعلم رواه عن منصور غير سعيد بن بشير، الكامل في الضعفاء: (4 / 412)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 495 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق