الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب ما جاء فى السداسيات
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِيَّ وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيَسْتَعْتِبُ) ) فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا) )
۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیال یہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میں نکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوفوں کی حکومت، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاگا کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10013]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 1610، والطبران في الكبير: 18/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16136»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10013 in Urdu