🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب ما جاء فيمن لعنه النبى أو سبه أو دعا عليه وليس هو اهل لذلك كان له زكاة وأجر ورحمة
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10118
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَسْبِقْنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعنت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10118]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23787»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفقاء صحابۂ کرام تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت پر مشتمل بد دعاان کے لیے باعث ِ تزکیہ و رحمت ہو گی۔
ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10118 in Urdu