الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدْ الْوَقْتِ الَّذِي تُقْبَلُ فِيهِ التَّوْبَةُ
اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 10172
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10172]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نعيم وشيخِه اسامة بن سلمان، أخرجه ابن حبان: 627، والبزار: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21856»
وضاحت: فوائد: … شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نعيم وشيخِه اسامة بن سلمان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10172 in Urdu