الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدْ الْوَقْتِ الَّذِي تُقْبَلُ فِيهِ التَّوْبَةُ
اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 10166
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ يَوْمًا حَتَّى قَالَ سَاعَةً حَتَّى قَالَ فَوَاقًا قَالَ قَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُشْرِكًا أَسْلَمَ قَالَ إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کی، اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ پہلے توبہ کی، اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی،یہاں تک کہ انھوں نے ایک دن، ایک گھڑی، بلکہ ایک فُوَاق کا بھی ذکر کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگربندہ مشرک ہو اور پھر اس وقت میں مسلمان ہو جائے؟ انھوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اتنا ہی بیان کروں گا، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10166]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 2284، والحاكم: 4/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6920»
وضاحت: فوائد: … فُوَاق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا اور دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک گھڑی کا ذکر ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10167
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10167]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6408»
وضاحت: فوائد: … غرغرہ سے مراد روح کا حلق میں پہنچ جانا ہے، اس کیفیت کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10168
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا قُبِلَ مِنْهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کی طرف سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10168]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7697»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10169
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے قبل توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10169]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10424»
وضاحت: فوائد: … جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا ہے، اس وقت تک توبہ کی قبولیت کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن ہر انسان کے حق میں توبہ کی قبولیت کا قانون حدیث نمبر (۱۰۱۶۷) میں بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10170
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ فَقَالَ الثَّانِي أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ فَقَالَ الثَّالِثُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ فَقَالَ الرَّابِعُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفْسِهِ
۔ عبد الرحمن بن بیلمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: چار صحابہ کرام جمع ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے ایک دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا: تو نے یہ بات واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تیسرے نے کہا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ چوتھے نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتے ہیں، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10170]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني، أخرجه الحاكم: 4/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15581»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10171
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) ایک صحابی سے مروی ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10171]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15581»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10172
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10172]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نعيم وشيخِه اسامة بن سلمان، أخرجه ابن حبان: 627، والبزار: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21856»
وضاحت: فوائد: … شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف