الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب فى فضل الصلوات الخمس وأنها مكفرة للذنوب
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
حدیث نمبر: 1018
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، فَقَالَ: ( (أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟) ) فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ: ( (مَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ) ) ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: ( (إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تَرَوْنَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ) )
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد ؓاور صحابۂ کرام میں کچھ مزید لوگوں سے بھی سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو آدمی بھائی تھے اور ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا اور وہ فوت ہو گیا، جو زیادہ فضیلت والا تھا، اس کے بعد دوسرا بھائی مزید چالیس دنوں تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پہلے فوت ہونے والی کی دوسرے پر فضیلت کو ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا دوسرے نے (چالیس روز) نمازیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! اس پر کوئی اعتراض نہیں (یعنی وہ بھی آدمی اچھا ہی تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا علم کہ اس کی ان نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے، جو ڈوبنے کے بقدر گہری ہو، میٹھے پانی کی ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ گھستا ہو (یعنی اس میں داخل ہو کر نہاتا ہو)، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اس کی کوئی میل کچیل باقی چھوڑے گی؟ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 310، والحاكم: 1/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1534»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1018 in Urdu