الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب أول المخلوقات وفيه ذكر الماء والعرش واللوح والقلم
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
حدیث نمبر: 10209
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا)) قَالَ قُلْنَا السَّحَابُ قَالَ ((وَالْمُزْنُ)) قُلْنَا وَالْمُزْنُ قَالَ ((وَالْعَنَانُ)) قَالَ فَسَكَتْنَا فَقَالَ ((هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ)) قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَمِنْ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَكِثْفُ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَفَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ رُكَبِهِنَّ وَأَظْلَافِهِنَّ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ لَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ شَيْءٌ))
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10209]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، يحييٰ بن العلاء الرازي متروك الحديث، وقال احمد: كذاب يضع الحديث، وسماك بن حرب وان كان صدوقا كان ربما لقّن، فاذا انفرد باصل لم يكن حجة، وقد تفرد بھذه الرواية عن عبد الله بن عميرة، أخرجه ابوداود: 4724، 4725، والترمذي: 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1770»
الحكم على الحديث: ضعیف