یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء فى الشمس والقمر والكواكب
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
حدیث نمبر: 10237
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب (ثریا) ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، تو آفت ختم کر دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10237]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8476»
وضاحت: فوائد: … عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ کہتے ہیں: ہم لوگ سفر میں تھے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ہمارے ساتھ تھے، میں نے ان سے پھلوں کی بیع کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفت کے اٹھ جانے تک پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کون سی چیز آفت کو دور کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: ثریا ستارے کا طلوع ہو جانا۔ (صحیح بخاری: ۱۴۸۶، صحیح مسلم: ۱۵۳۴، واللفظ لاحمد)
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10237 in Urdu