یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء فى الغيم والمطر والبرد و زمن الشتاء
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10251
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10251]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26087»
وضاحت: فوائد: … اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے فکر ہوتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10251 in Urdu