یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء فى ذكر نبي الله نوح وقول الله عز وجل: وكذلك جعلناكم أمة وسطا
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
حدیث نمبر: 10324
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ أَيْضًا قَالَ فَيَقُولُ يَعْنِي نُوحًا إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10324]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھو حديث طويل، أخرجه الطيالسي: 2711، وابن ابي شيبة: 14/ 135، وروي نحو ھذا الحديث الترمذي: 3148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10324 in Urdu