الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَفَضْلِهِ عَلَيْهِ وَ عَلَى نَبِيِّنَا الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10338
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [سورة البقرة: 260]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس نے کہا: کیا ابھی تک تو ایمان نہیں لایا، ابراہیم نے کہا: جی کیوںنہیں، (میں اس لیے سوال کر رہا ہوں تاکہ) میرا دل مطمئن ہو جائے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10338]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4537، ومسلم: 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8311»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب ثبت کیا ہے: باب زیادۃ طمأنینۃ القلب بتظاہر الأدلۃ فیہ (ظاہر دلائل کی وجہ سے دل کے اطمینان کے زیادہ ہونے کا بیان) پھر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: شک کرنے سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، سب سے بہترین اور صحیح ترین جواب وہ ہے جو امام شافعی کے شاگرد امام ابو ابراہیم مزنی اور دوسرے کئی اہل علم نے دیا ہے، ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے: مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں ابراہیم علیہ السلام کے حق میں شک کرنا محال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانا چاہتے ہیں: اگر انبیائے کرام کو شک ہو سکتا ہوتا میں شک کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوتا، پس تم جان لو کہ میں نے شک نہیں کیا، سو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4537
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10338 in Urdu