🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء فى الرواية و التحديث عن أخبار بني إسرائيل
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10429
عَنْ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ
۔ سیدنا ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم سے بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب، بلکہ کہو: ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، پس اگر ان کی بات حق ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ باطل ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10429]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17357»
وضاحت: فوائد: … چونکہ تورات اور انجیل میں تحریف ہو چکی ہے اور یہودو نصاری کے مذہبی ادب میں کوئی ایسا ضابطہ باقی نہیں رہا، جس کے ذریعےیہ معلوم کیا جا سکے کہ ان آسمانی کتابوں کا فلاں حصہ حقیقت کے مطابق ہے اور فلاں حصہ مخالف، تحقیق کے وقت اصل متن (ٹیکسٹ) کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کتابوں کی زبان ہی سرے سے مفقود ہو گئی ہے، اس لیے بنی اسرائیل کی روایات سن لینے پر اکتفا کرنا چاہیے، نہ ان کی تصدیق کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ جھوٹ ہوں اور نہ ان کی تکذیب کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہوں۔
ہاں اسلام میں تورات اور انجیل کی جس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہ حقیقت کے مطابق ہے یا وہ تحریف شدہ ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10429 in Urdu