🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما جاء فى ذكر زواجه بالسيدة المصونة خديجة بنت خويلد رضي الله تعالٰي عنها
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10474
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمْرَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَّقَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَقَالَ مَا شَأْنِي مَا هَذَا قَالَتْ زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَمَا تَسْتَحْيِ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10474]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فقد شكّ حماد بن سلمة في وصله، ثم ان حماد بن سلمة قد دلسه، أخرجه الطبراني: 12838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2850»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں،یہ نسب کے لحاظ سے قُصَی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل جاتی ہیں، ذیل میں مذکورہ دونوں ناموں پر غور کریں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نسبی رشتے کا اندازہ لگائیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب
خدیجۃ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر (۲۵) برس اور سیدہ کی عمر (۴۰) برس تھی، شادی کی پیش کش سیدہ کی طرف سے کی گئی تھی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف ِ زوجیت سے نوازا اور ایسی سعادت عطا فرمائی کہ پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے باعث رشک ٹھہریں۔
بَابٌ فِیْ ذِکْرِ تَجْدِیْدِ قُرَیْشٍ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ قَبْلَ الْبَعْثِ بِخَمْسِ سِنِیْنَ وَاِخْتَلَافِھِمْ فِیْ رَفْعِ الْحَجَرِ وَتَحْکِیْمِہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ رَفْعِہِ وَتَسْمِیَتِہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِالْأَمِیْنِ
قریشیوں کا نبوت سے پانچ سال قبل کعبہ کی عمارت کی تجدید کرنا، حجرِ اسود کو اٹھانے میں ان کا اختلاف کرنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس معاملے کاحاکم بنانا اور دورِ جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امین کا لقب ملنا

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10474 in Urdu