یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب ما جاء فى مرض أبى طالب ووفاته ودفنه وما ورد فيه
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 10550
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُتَنَعَّلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمی لوگوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اس کو آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10550]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2636»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر آٹھ برس، دو مہینے اور دس دن ہوئی، آپ کے دادا عبد المطلب انتقال کر گئے، ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت کا بیڑا اٹھا لیا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کے سگے بھائی تھے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص اور عرصۂ دراز کے لیے رحمت و شفقت برتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمانۂ اعلانِ نبوت یعنی چالیس سال کی عمر تک ان کے زیرِ سایہ رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت و رسالت کا اعلان کیا تو ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے محافظ، بازو اور قلعہ ثابت ہوئے کہ مکہ کے بڑوں اور بیوقوفوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اسلامی دعوت نے اس کے ہاں پناہ لیے رکھی، لیکن وہ خود اپنے باپ دادا کی ملت پر قائم رہے، اس لیے پورے طور پر کامیاب نہ ہو سکے، نبوت کے ابتدائی دس برسوں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کا تعاون حاصل رہا، ابو طالب کی وفات ۱۰نبوی میں ہوئی۔
ابو طالب کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی اسی سال میں وفات پا گئیں تھیں، اس طرح یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عام الحزن (غم کا سال) ثابت ہوا اور ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصائب کا تانتا بندھ گیا۔
ابو طالب کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی اسی سال میں وفات پا گئیں تھیں، اس طرح یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عام الحزن (غم کا سال) ثابت ہوا اور ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصائب کا تانتا بندھ گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10550 in Urdu