🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب ما جاء فى قدوم صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وخروج أهلها به واستقبالهم إياه جميعا رجالا ونساء ونزوله بدار أبى أيوب الأنصاري
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اترنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10626
عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلَ فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ بِي فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ أَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرَ أَصَابِعُهُ فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَمْ يَأْكُلْ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْرَهُهُ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10626]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23914»
وضاحت: فوائد: … کیا بات ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت وجود کے احترام کے تقاضے سمجھ لیے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10626 in Urdu