🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10658
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10658]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14032»
وضاحت: فوائد: … یہ انصار کا کرم اور ان کی خوبی تھی کہ وہ مہاجرین کو اپنے گھر ٹھہرانے اور ان کی میزبانی کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حقیقی نمونہ تھے کہ {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖفَاُولٰیِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} … اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ سورۂ حشر: ۹)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محبت و ایثار کو انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ کرا کے مزید پختہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر انصاری اور اس کے نزیل (مہاجر مہمان) کو بھائی قرار دیا،یہ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین سے اور آدھے انصار سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان غمگساری پر اور اس بات پر بھائی چارہ کرایا کہ قرابت داروں کے بجائے وہی موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بعد میں وراثت تو منسوخ کر دی گئی، لیکن بھائی چارگی باقی رہی۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14032


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10658 in Urdu