الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10659
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10659]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16883»
وضاحت: فوائد: … عہد و پیمان کی دو قسمیں ہیں: (۱) عہدوپیمان کی وہ صورتیں جن سے اسلامی تعلیمات کی مخالفت ہوتی ہو، مثلا دو افراد کا آپس میں یہ معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، اس سے اللہ تعالیٰ کے میراث سے متعلقہ قوانین متاثر ہوں گے، اسی طرح خواتین کا آپس میں معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسری کے اموات پر مل کر نوحہ کریں گی، وغیرہ وغیرہ۔ عہد و پیمان کییہ قسم ہر صورت میں ممنوع ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑھے گا کہ اسلام سے پہلے اس کا تعین کیا گیایا بعد میں۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2530
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10659 in Urdu