🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب إخبار النبى صلى الله عليه وسلم بمصارع صناديد قريش قبل موتهم ورمي جنيهم فى بشر ثم ندائه إياهم بالتقريع والتوبيخ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی¤جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ¤کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10711
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُحِدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طَوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ قَالَ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ قَالَ فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطَّوَى قَالَ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، ومسلم: 2875 عن انس بن مالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12498»
وضاحت: فوائد: … دراصل اللہ تعالیٰ نے ان لاشوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سننے کا ادراک پیدا کر دیا تھا، جس سے ان کی حسرت میں اضافہ ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10711 in Urdu