الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10719
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10719]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16470»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر دلوں کا مطمئن ہونا اور اس کی ذات پر مکمل توکل اور بھروسہ کرنا، اس چیز کا نتیجہ تھا کہ دشمن سامنے ہونے کے باوجود لشکر ِ اسلام کییہ کیفیت تھی اور ان کو دشمن کا کوئی خوف و خطر نہیں تھا، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی کم تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4562
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10719 in Urdu