الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10715
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج، أخرجه البزار: 1783، والطبراني: 12083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2232»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 10716
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10716]
تخریج الحدیث: «رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه الترمذي: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2873»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ إِحْدَی الطَّائِفَتِیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللّٰہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ۔} … اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (سورۂ انفال: ۷)
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔
{وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ إِحْدَی الطَّائِفَتِیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللّٰہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ۔} … اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (سورۂ انفال: ۷)
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔
الحكم على الحديث:
رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب
حدیث نمبر: 10717
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَأُرَاهُ قَالَ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10717]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3984، 3985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16157»
وضاحت: فوائد: … لشکر ِ اسلام میں اسلحہ کی قلت بھی تھی اور دور سے تیر فائر کر دینے سے تیر ضائع بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دوری کی وجہ سے نشانے پر نہ لگے یا دشمن کو اس سے بچنے کا موقع مل جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3984
حدیث نمبر: 10718
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ) أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَعِي مَعِي
سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10718]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23965»
وضاحت: فوائد: … جنگ میں حسن نظام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی قیادت بھی کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 10719
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10719]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16470»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر دلوں کا مطمئن ہونا اور اس کی ذات پر مکمل توکل اور بھروسہ کرنا، اس چیز کا نتیجہ تھا کہ دشمن سامنے ہونے کے باوجود لشکر ِ اسلام کییہ کیفیت تھی اور ان کو دشمن کا کوئی خوف و خطر نہیں تھا، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی کم تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4562
حدیث نمبر: 10720
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَصْغَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَرُدِدْنَا يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18836»
وضاحت: فوائد: … جنگ میں جنگجو کی قوت و طاقت، عزم و عزیمت اور عقل و رشد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جبکہ کم سن افراد ان صفات سے متصف نہیں ہوتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3955
حدیث نمبر: 10721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا الرَّحِمَ وَأَتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ فَأَحِنْهُ الْغَدَاةَ فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحُ
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10721]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 359، والحاكم: 2/ 328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24061»
وضاحت: فوائد: … ابو جہل کی اس دعا کا مصداق وہ خود ٹھہرا، کیونکہ اسی نے قطع رحمی کی تھی اور وہ بتوںکی پوجا پاٹ کی صورت ایسا عمل کرتا تھا، جو انتہائی غیر معروف تھا، پس اس کے حق میں اس کی دعا قبول ہوئی اور وہ بری طرح رسوا ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح