🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحَدٍ مِنْ كَسْرِ رَبَاعِيَتِهِ وَشَحُ وَجْهِهِ وَوَقَايَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ لَهُ بِالْمَلَائِكَةِ وَشِدَّةِ غَضَبِهِ عَلَى مَنْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ
غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10734
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ٹوٹے رباعی دانت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب ہوا،جنہوں نے اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا سلوک کیاا ور اس آدمی پر بھی اللہ کا شدید غضب ہے، جسے اللہ کا رسول اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کرے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10734]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4073، ومسلم: 1793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8198»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں کہا: واقدی نے کہا: میرے نزدیکیہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخساروں پر تیر مارنے والا ابن قمئہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہونٹوں اور سامنے والے دانتوں پر وار کرنے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
دشمنوں کے ہاتھوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قدر زخمی ہو جانے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو جائے، نیز اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بشر ہیں اور وہ عارضے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی پیش آ سکتے ہیں، جو عام طور پر انسانوں کا مقدر بن جاتے ہیں تاکہ لوگوں کویقین ہو جائے کہ اصل اختیار، اقتدار اور مرضی اللہ تعالیٰ کی چلتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4073


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10734 in Urdu