الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحَدٍ مِنْ كَسْرِ رَبَاعِيَتِهِ وَشَحُ وَجْهِهِ وَوَقَايَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ لَهُ بِالْمَلَائِكَةِ وَشِدَّةِ غَضَبِهِ عَلَى مَنْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ
غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
حدیث نمبر: 10732
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ فَأُنْزِلَتْ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دو دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت شہید ہوگیا اور آپ کا رُخ انور اس قدر زخمی ہو گیا کہ خون آپ کے چہرے پر بہہ پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی اثناء میں فرما رہے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو گی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، حالانکہ وہ نبی تو انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … آپ کو اس بارے میںکچھ بھی اختیار نہیں،یہ اللہ کی مرضی ہے کہ ان پر توجہ کرےیا انہیں عذاب سے دو چار کرے، بے شک وہ ظالم ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10732]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11978»
وضاحت: فوائد: … دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کی ہدایت سے ناامیدی ظاہر فرمائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعےیہ بتلایا کہ ان کافروں کو ہدایت دینایا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن لوگوں کے بارے میں یہ فرما رہے تھے کہ وہ کیسے کامیاب ہوں گے،ان میں سے اکثر مشرف باسلام ہو گئے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن لوگوں کے بارے میں یہ فرما رہے تھے کہ وہ کیسے کامیاب ہوں گے،ان میں سے اکثر مشرف باسلام ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10733
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنْزَلَ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ} [آل عمران: 128] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، سامنے والے دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت ٹوٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر بھی ایک تیر آکر لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر بھی خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عالم میں اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ وہ امت کیسے فلاح یاب ہو سکتی ہے، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیارمیں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10733]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13114»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کے نزول کے بارے میں ایک اور حدیث درج ذیل ہے:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں بد دعا کی: ((اللَّہُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّہُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، اللَّہُمَّ الْعَنْ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّہُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ۔))، قَالَ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] قَالَ: فَتِیبَ عَلَیْہِمْ کُلِّہِمْ۔ … اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔
(ترمذی: ۳۰۰۴، نسائی:: ۲/ ۲۰۳، مسند احمد: ۵۶۷۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفر (۴) سن ہجری میں ستر قراء صحابہ کو بئر معونہ والوں کی طرف بھیجا، تاکہ یہ ان کو قرآن مجید اور علم شرعی کی تعلیم دیں،ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، لیکن عامر بن طفیل نے ان قراء کو قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا بڑا دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ قنوت ِ نازلہ کی اور ان قبائل پر بد دعا، بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کرنا ترک کر دیا تھا۔
ویسے تعیین کے ساتھ صرف اس آدمی پر لعنت کی جا سکتی ہے، جس کا وحی کے ذریعے جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہو، مثلا ابو جہل پر لعنت ہو، ابو لہب پر لعنت۔
وگرنہ کسی کافر اور مسلمان پر تعیین کے ساتھ لعنت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ممکن ہے کہ ایسا کافر اپنی زندگی میں مشرف باسلام ہو جائے، ہاں مطلق طور ایسے کہنا درست ہے کہ کافروں پر لعنت ہو، جھوٹوں پر لعنت ہو، اس سے مراد وہ افراد ہوں گے، جنھوں نے کفر اور جھوٹ کی حالت میں ہی مرنا ہو گا۔
ان دو احادیث میں الگ الگ واقعات بیان کیے گئے ہیں، پہلے غزوۂ احد اور اس کے بعد بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا، لیکن دونوں میں ایک ہی آیت کے نزول کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے بعد نماز میں مذکورہ لوگوں پر بد دعا کی تو دونوں واقعات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکنیہاں اصول تفسیر کا یہ قانون پیش کرنازیادہ بہتر ہے کہ صحابۂ کرام جب ایک آیت سے مختلف مسائل استنباط کرتے ہیں تو وہ لفظ فَنَزَلَتْ استعمال کرتے ہیں،یہ سب سے بہتر صورت ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں بد دعا کی: ((اللَّہُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّہُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، اللَّہُمَّ الْعَنْ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّہُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ۔))، قَالَ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] قَالَ: فَتِیبَ عَلَیْہِمْ کُلِّہِمْ۔ … اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔
(ترمذی: ۳۰۰۴، نسائی:: ۲/ ۲۰۳، مسند احمد: ۵۶۷۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفر (۴) سن ہجری میں ستر قراء صحابہ کو بئر معونہ والوں کی طرف بھیجا، تاکہ یہ ان کو قرآن مجید اور علم شرعی کی تعلیم دیں،ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، لیکن عامر بن طفیل نے ان قراء کو قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا بڑا دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ قنوت ِ نازلہ کی اور ان قبائل پر بد دعا، بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کرنا ترک کر دیا تھا۔
ویسے تعیین کے ساتھ صرف اس آدمی پر لعنت کی جا سکتی ہے، جس کا وحی کے ذریعے جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہو، مثلا ابو جہل پر لعنت ہو، ابو لہب پر لعنت۔
وگرنہ کسی کافر اور مسلمان پر تعیین کے ساتھ لعنت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ممکن ہے کہ ایسا کافر اپنی زندگی میں مشرف باسلام ہو جائے، ہاں مطلق طور ایسے کہنا درست ہے کہ کافروں پر لعنت ہو، جھوٹوں پر لعنت ہو، اس سے مراد وہ افراد ہوں گے، جنھوں نے کفر اور جھوٹ کی حالت میں ہی مرنا ہو گا۔
ان دو احادیث میں الگ الگ واقعات بیان کیے گئے ہیں، پہلے غزوۂ احد اور اس کے بعد بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا، لیکن دونوں میں ایک ہی آیت کے نزول کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے بعد نماز میں مذکورہ لوگوں پر بد دعا کی تو دونوں واقعات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکنیہاں اصول تفسیر کا یہ قانون پیش کرنازیادہ بہتر ہے کہ صحابۂ کرام جب ایک آیت سے مختلف مسائل استنباط کرتے ہیں تو وہ لفظ فَنَزَلَتْ استعمال کرتے ہیں،یہ سب سے بہتر صورت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10734
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ٹوٹے رباعی دانت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب ہوا،جنہوں نے اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا سلوک کیاا ور اس آدمی پر بھی اللہ کا شدید غضب ہے، جسے اللہ کا رسول اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کرے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10734]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4073، ومسلم: 1793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8198»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں کہا: واقدی نے کہا: میرے نزدیکیہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخساروں پر تیر مارنے والا ابن قمئہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہونٹوں اور سامنے والے دانتوں پر وار کرنے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
دشمنوں کے ہاتھوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قدر زخمی ہو جانے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو جائے، نیز اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بشر ہیں اور وہ عارضے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی پیش آ سکتے ہیں، جو عام طور پر انسانوں کا مقدر بن جاتے ہیں تاکہ لوگوں کویقین ہو جائے کہ اصل اختیار، اقتدار اور مرضی اللہ تعالیٰ کی چلتی ہے۔
دشمنوں کے ہاتھوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قدر زخمی ہو جانے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو جائے، نیز اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بشر ہیں اور وہ عارضے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی پیش آ سکتے ہیں، جو عام طور پر انسانوں کا مقدر بن جاتے ہیں تاکہ لوگوں کویقین ہو جائے کہ اصل اختیار، اقتدار اور مرضی اللہ تعالیٰ کی چلتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10735
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا، وہ سفید لباس میں ملبوس تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھر پور دفاع کر رہے تھے، ان دونوں کو میں نے اس سے پہلے یا بعد میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10735]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4054، ومسلم: 2306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1468»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے مطابق یہ جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غزوۂ بدر کے علاوہ دوسرے غزوات میں بھی فرشتوں کی شرکت ہوئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح