Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء فى زواجه ﷺ بأم سلمة رضي الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10750
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ حَلَلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمِّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زَنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا وَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلِ اقْسِمْ لِي
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے گزشتہ حدیث کی مانند ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں آئے تو دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ واپس لوٹ گئے، اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورانہیں دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر واپس چلے گئے۔ جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ ان کے ہاں آئے اور کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی حاجت کے درمیان حائل ہو، تم یہ بچی مجھے دے دو، پس وہ اسے لے گئے اور اسے دودھ پلانے والی عورت کا بندوبست کر دیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے عمار لے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف رکھی اور فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاں پچھلے پہر تک قیام کیا اورپھر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کر سکتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن گزاروں گا اور اگر چاہو تو تمہارے لیے باری مقرر کردوں؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے باری ہی مقرر کر دیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10750]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد العزيز بن بنت ام سلمة، ولضعف اسماعيل بن عبد الملك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27257»

الحكم على الحديث: صحیح