🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ حُنين وتاريخها وسببها وَغَيْرِ ذلِكَ
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10899
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَبَّاسٌ وَأَبُو سُفْيَانَ مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَطَبَهُمْ وَقَالَ ”الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ“ وَقَالَ ”نَادِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ“
۔(دوسری سند) کثیر بن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تنور یعنی میدان گرم ہوا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں آواز دو: اے سورۂ بقرہ والو! [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10899]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776»
وضاحت: فوائد: … میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والوں کو بلانے کے لیے سورۂ بقرہ کا ذکر کرنا، اس سے سورۂ بقرہ کی درج ذیل تین آیات میں سے کسی آیت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے:
(۱) … {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہٖ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ فَلَمَّا جَاوَزَہ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖقَالَالَّذِیْنَیَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوااللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔} … پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بے شک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمھاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بے شک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، تو انھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ یقینا وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۴۹)
(۲) … {یٰبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ۔} … اے بنی اسرائیل!میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو، میں تمھارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔ (سورۂ بقرہ: ۴۰)
(۳) … {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاء َ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ۔} … اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۷)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10899 in Urdu