🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ حُنين وتاريخها وسببها وَغَيْرِ ذلِكَ
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10900
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ فَقُلْتُ لَهُ ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ فَقَالَ"نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ“ فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ثُمَّ قَالَ"أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟“ قُلْتُ هُمْ أُولَاءِ قَالَ"اهْتِفْ بِهِمْ“ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، لوگ پیٹھ دے کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میدان میں چھوڑ کر فرار ہو نے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اسی مہاجرین اور انصار باقی رہ گئے تھے، ہم اپنے قدموں پر تقریباً اسی قدم پیچھے ہٹے تھے اور ہم نے کفار کو پیٹھ نہیں دکھائی تھی، انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے بڑھتے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خچر بدکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی کاٹھی سے ذرا اُچھکے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ سیدھے ہو جائیں، اللہ آپ کو مزید بلند کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی بھر مٹی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مٹی کفار کے چہروں کی طرف پھینکی، ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ ادھر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو آواز دے کر بلاؤ۔ میں نے ان کو آواز دے کر بلایا، وہ سب آگئے، ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آگ کے شعلے ہیں، اس کے بعد مشرکین پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن والد القاسم يترجح عدم سماعه ھذا الخبر من ابيه، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 10351، والحاكم: 2/ 117، والبزار: 1829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4336»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10900 in Urdu