الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابٌ فِي ذِكْرِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ لِعُذْرٍ
ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
حدیث نمبر: 10945
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَقَالَ مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ“ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ“ قَالَ فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا
۔(دوسری سند) سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی سواری کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے رکھنے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ میری آنکھ مجھ پر غالب آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سیاہ فام، پست قد، سخت گھونگریالے بالوں والوں نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کیقسم! میں اپنے لوگوں میں ایسے لوگوں کو نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جن کی مقام شبکہ شرخ میں بکریاں ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ تو بنو غفار میں ہیں، پھر مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ بنو اسلم کے ہیں، وہ لوگ ہمارے حلیف تھے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ بنو اسلم سے ہیں اور وہ ہمارے حلیف تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10945]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19284»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19284
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10945 in Urdu