🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ حَدِيثٍ كَعْبِ بْن مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاثَةِ الَّذِينَ تَخَلَّفُوا عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَنَزَلَ القُرْآنُ بِتَوْبَتِهِمْ رضي الله عنه
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10946
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ قَالَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَتَجَهَّزُ غَدًا ثُمَّ أَلْحَقُهُ فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ فَقُلْتُ آخُذُ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ فَلَمْ أَفْرُغْ فَقُلْتُ أَيْهَاتَ سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا فَأَقَمْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا وَأُمِرَتْ نِسَاؤُنَا أَنْ يَتَحَوَّلْنَ عَنَّا قَالَ فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَيْ جَابِرُ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ قَالَ فَسَكَتَ عَنِّي فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي قَالَ فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ كَعْبًا كَعْبًا حَتَّى دَنَا مِنِّي فَقَالَ بَشِّرُوا كَعْبًا
عمر بن کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا میں غزوۂ تبوک کے موقع پر سواری اور اخراجات کے لحاظ سے جس قدر خوش حال تھا، اس سے قبل کبھی بھی اس قدر خوش حال نہیں تھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو گئے تو میں نے سوچا کہ میں کل تیاری کر کے روانہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں گا۔ تو میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا، تاآنکہ شام ہو گئی اور میں اپنی مصروفیات سے فارغ نہ ہو سکا، میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں، میں کل تیاری کر لوں گا، لوگ ابھی قریب ہی ہیں، پس میں ان سے جا ملوں گا، دوسرے دن بھی شام تک کاموں سے فارغ نہیں ہو سکا، جب تیسرا دن ہوا تو میں پھر کاموں میں مصروف رہا اور شام تک کاموں سے فارغ نہ ہو سکا، میں نے سوچا کہ اب تو دیر ہو گئی، لوگ تین دن سفر کر چکے ہیں،یہ سوچ کر میں نے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا اور یہیں ٹھہرا رہا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرتیں کرنے لگے۔ میں بھی آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، میں نے عرض کیا میں اس غزوہ کے موقع پر سواری اور اخراجات کے لحاظ سے جس قدر خوشحال تھا، اتنا کسی دوسرے غزوہ کے موقع پر خوش حال نہیں تھا۔ (یعنی میرا کوئی شرعی عذر نہیں تھا، بلکہ غفلت ہوئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم صادر فرمایا کہ کوئی بھی شخص ہمارے ساتھ کلام نہ کرے۔ اور ہماری بیویوں کو ہم سے الگ رہنے کا حکم دیا گیا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انہی ایام میں میں ایک دن باغ کی دیوار پر چڑھ کر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور میں نے کہا: اے جابر! میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہارے علم میں ہے کہ میں نے کبھی اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دیا ہو؟ وہ میری بات سن کر خاموش رہے اور مجھ سے کو ئی بات نہیں کی۔ میں اسی طرح دن گزار رہا تھا کہ ایک دن پہاڑ کی گھاٹی کی طرف سے میں نے ایک آدمی کو سنا جو میرا نام لے کر کعب کعب پکار رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا کہ کعب رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10946]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله فاذا انا بجابر بن عبد الله۔ وھذا اسناده ضعيف لانقطاعه، عمر بن كثير لم يدرك كعب بن مالك، أخرجه مطولا ومختصرا ودون الفقرة المنقطعة البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15863»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله فاذا انا بجابر بن عبد الله ۔ وھذا اسناده ضعيف لانقطاعه


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10946 in Urdu