الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11000
عَنْ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں کی۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ ایمان کو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا ہے، جبکہ خود تو وصیت نہیں کی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے بارے میں وصیت کی تھی (یعنی اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2740، 4460، ومسلم: 1634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19628»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ِ مبارکہ کے ختم ہونے تک اپنی امت کی رہنمائی کرتے رہے، اس لیے وفات کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی امور کا حکم دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2740
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11000 in Urdu