الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب هل أوضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء أم لا؟ وهل عهد لاحد بالخلافة من بعده أم لا؟
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11001
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي أَوْ قَالَتْ فِي حِجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
اسود سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کی ہے (کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ ہوں گے)، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کس وقت وصیت کی؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے ٹیک دئیے ہوئے تھی،یایوں کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گودمیں لیا ہوا تھا، آپ نے پانی کا برتن طلب فرمایا اور میری گود ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی اور مجھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا بھی پتہ نہیں چلا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کب کر دی؟ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11001]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2741، ومسلم: 1636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24540»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2741
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11001 in Urdu