الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء فى اهتمام ال بيته بمرضه ومحاولتهم شفاء بالأدوية والرقى
اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
حدیث نمبر: 11006
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قُلْتُ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ”أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ لَا تَلُدُّونِي“ قَالَ ”لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُنَّ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوا ڈالنے کی کوشش کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ مجھے اس طرح دوا نہ دو۔ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام مریض کی طرح دوا کونا پسند کر رہے ہیں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم لوگوں کو منع نہیں کیا تھا کہ مجھے دوا نہ ڈالو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے، ما سوائے عباس کے، کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11006]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4458، 5712، ومسلم: 2213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24767»
وضاحت: فوائد: … لدود: مریض کی زبان ایک طرف کر کے دوسری طرف سے دوا ڈالنا اور اس کو انگلی سے تھوڑا حرکت دینا، اس کو لدود کہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت نے ذات الجنب کی بیماری سمجھ کر یہ دوا ڈالی تھی، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مذمت کی۔ ذات الجنب کی بیماری کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۶۸۹)۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت نے ذات الجنب کی بیماری سمجھ کر یہ دوا ڈالی تھی، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مذمت کی۔ ذات الجنب کی بیماری کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۶۸۹)۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4458
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11006 in Urdu