🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء فى اهتمام ال بيته بمرضه ومحاولتهم شفاء بالأدوية والرقى
اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11008
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ فَلَدُّوهُ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ”مَا هَذَا؟“ فَقُلْنَا هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ قَالُوا كُنَّا نَتَّهِمُ فِيكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْرَفُنِي بِهِ لَا يَبْقَيَنَّ فِي هَذَا الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا الْتَدَّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ“ يَعْنِي الْعَبَّاسَ قَالَ فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا آغاز ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ میں دوا ڈالنے کا مشورہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ میں دوا انڈیل دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا:یہ ارضِ حبشہ سے آئی ہوئی عورتوں کا کام ہے، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں سے تھیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے سمجھا کہ آپ کو نمونیا کی شکایت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمونیا ایسی بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا، اب گھر میں جتنے بھی لوگ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوا ان سب کے منہ میں یہ دوا انڈیلی جائے۔ راوی کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کے پیش نظر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے منہ میں بھی دوا ڈالی گئی حالانکہ وہ روزے سے تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11008]
تخریج الحدیث: «اسناد مرسل، أخرجه ابن حبان: 6587، والطبراني في المعجم الكبير: 24/ 372، والحاكم: 4/ 202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28017»

الحكم على الحديث: اسناد مرسل


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11008 in Urdu