الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ الِ بَيْتِهِ بِمَرْضِهِ وَمُحَاوَلَتِهِمْ شِفَاءَ بِالْأَدْوِيَةِ وَالرُّقَى
اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
حدیث نمبر: 11010
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمُرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدَيَّ وَقَالَ ”أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو پکڑکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کے ساتھ دعا کرتی، اَذْھِبِ الْبَاْسِ رَبِّ النَّاسِ (اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور کر دے)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر فرمایا: اَسْاَلُ اللّٰہَ الرَّفِیْقَ الْاَعْلَی الْاسْعَدَ (میں اللہ تعالیٰ سے بلند مرتبہ با سعادت حضرات کی رفاقت کی دعا کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11010]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25403»
وضاحت: فوائد: … ہاتھ کھینچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اب دعا اور حصولِ شفا کا وقت ختم ہو گیا ہے، مرض الموت میں شفا کی دعا نہیں کی جاتی، مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2191
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11010 in Urdu