الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء فى احتصاره صلى الله عليه وسلم ومعالجته سكرات الموت وتخسيره بين الدنيا والآخرة واختياره الرفيق الأعلى وهو آخر ما تكلم به
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11027
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ فَقُلْتُ قَدْ قَضَى قَالَتْ فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ فَنَظَرَ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا فَقَالَ مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنی حیات طیبہ میں) فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح کچھ دیر کے لیے قبض کر کے اسے اس کا ثواب دکھانے کے بعد اس کی روح کو لوٹا دیا جاتا ہے، اور اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اب دنیا اور آخرت میں سے جس کا چاہیں، انتخاب کر لیں۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئییہ بات یاد تھی۔ مرض الموت کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن ڈھلک گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمائی ہوئی بات یاد آ گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت سنبھل گئی، میں جان گئی کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا انتخاب نہیں کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ آیت کے آخر تک۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11027]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبد الله لم يدرك عائشة، أخرجه ابن سعد: 2/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24958»
وضاحت: فوائد: … سابقہ دو تین احادیث میں اس حدیث کا مضمون بیان کیاگیا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11027 in Urdu