🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11022
حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماروں کو ان الفاظ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے رب!بیماری کو دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جو تمام بیماریوں کو ختم کر دے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں شدید بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام کر اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کو زبان سے ادا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: اے میرے رب! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے۔ امام احمد کے شیخ ابو معاویہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آخری الفاظ تھے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے۔ امام احمد کے دوسرے استاذ ابن جعفر نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا فرماتے: أَذْہِبْ … …۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11022]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5743، 5750، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24686»
وضاحت: فوائد: … رفیق اعلی سے مراد انبیائ، اصدقائ، شہداء اور صلحاء ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۰۲۶) میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5743
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11023
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى الرَّفِيقُ الْأَعْلَى يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور گردن کے درمیان تھے، اس وقت میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسواک کی طرف دیکھا، میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کی ضرورت ہے۔ میں نے ان سے مسواک لے کر اسے چبا یا اور جھاڑ کر صاف کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خوبصورت انداز سے مسواک کی کہ میں نے کبھی اس طرح خوبصورت انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مجھے پکڑانے لگے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، میں نے اسے اُٹھا یا اور میں اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کرنے لگی جو دعا جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جب کبھی بیمار ہوتے تو وہی دعا پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اس بیماری میں آپ نے وہ دعا نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: رفیقِ اعلی، رفیقِ اعلی۔ اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اللہ کا بڑاشکر ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری دن میرے لعاب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کے ساتھ جمع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11023]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4451، ومسلم: 2443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24720»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4451
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11024
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةِ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موت کے آثار نمودار ہوئے، تو سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا بے اختیار کہنے لگیں: ہائے مصیبت! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! تمہارے باپ پر اب وہ وقت آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک کسی کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11024]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12461»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11025
أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرَهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا جنت میں جو مقام ہے، اس کی وفات سے قبل اسے وہ دکھا دیا جاتا ہے۔ پھر اسے دنیا اورآخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوئے اور وفات کا وقت قریب آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، پھر جب افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمرے کی چھت کی طرف نظر اُٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! رفیق اعلی میں منتقل ہونا چاہتا ہوں۔ میں جان گئی کہ یہ اسی بات پر عمل ہوا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے اپنی صحت کے دنوں میں بیان کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11025]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4437، 6348، ومسلم: 2444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25090»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب بھی کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آئی، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ میں یہ سن کر جان گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیااور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخرت کا انتخاب کیا ہے۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11026]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4435، ومسلم: 2444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26850»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں رفیق اعلی کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4435
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11027
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ فَقُلْتُ قَدْ قَضَى قَالَتْ فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ فَنَظَرَ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا فَقَالَ مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنی حیات طیبہ میں) فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح کچھ دیر کے لیے قبض کر کے اسے اس کا ثواب دکھانے کے بعد اس کی روح کو لوٹا دیا جاتا ہے، اور اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اب دنیا اور آخرت میں سے جس کا چاہیں، انتخاب کر لیں۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئییہ بات یاد تھی۔ مرض الموت کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن ڈھلک گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمائی ہوئی بات یاد آ گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت سنبھل گئی، میں جان گئی کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا انتخاب نہیں کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ آیت کے آخر تک۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11027]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبد الله لم يدرك عائشة، أخرجه ابن سعد: 2/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24958»
وضاحت: فوائد: … سابقہ دو تین احادیث میں اس حدیث کا مضمون بیان کیاگیا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11028
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَصَابَتْهُ بُحَّةٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنتی رہتی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اورآخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ مرض الموت کے دوران ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولٰئِکَ رَفِیقًا} … ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا،یہ لوگ بلحاظ رفاقت کے کتنے اچھے ہیں۔ پس میں جان گئی کہ آپ کو دنیا وآخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11028]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4437، 6348، ومسلم: 2444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26220»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11029
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، پانی کا پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں ڈال کر اسے گیلا کر کے اپنے چہرہ اقدس پر پھیرتے اور یہ دعا کر تے جا رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ (اے اللہ! موت کی سختیوں میںمیری مدد فرما۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه ابن ماجه: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24860»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه ابن ماجه: 1623
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11030
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور گردن کے درمیان تھے، چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت نزع کی شدت کو دیکھا ہے، لہذا اب میں کسی کے لیے موت کی سختی کو ناپسند نہیں کرتی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11030]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24987»
وضاحت: فوائد: … حالت نزع میں آدمی کا شدت کا سامنا کرنا، اس میں انبیاء اور صالحین بھی مبتلا ہو جاتے ہیں، لہذا نعوذ باللہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کی وجہ سے میت کے بارے میں سوئے ظن ہونے لگے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11031
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا رِبَاحٌ قَالَ قُلْتُ لِمَعْمَرٍ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ نَعَمْ
رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے معمر سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11031]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح،انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26883»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے بالکل پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ، وَاَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلی میں منتقل کر دے)۔ (صحیح بخاری: ۵۶۷۴) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں ٹیک لگائی ہو گی کہ اس پر بیٹھنے کا اطلاق بھی کیا جا سکتا ہو گا۔

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں