الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما جاء فى تأثير وفاته على أصحابه وال بيته ودهشتهم عند قبض روحه وبكاء هم لذلك وتقبيل أبى بكر إياه بعد موته ﷺ
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11042
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قُدِّرَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھاری دارچادر ڈالی گئی تھی، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے کپڑا ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا: میرا باپ اور ماں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو موتیں کبھی بھی جمع نہیں کرے گا، پہلی موت جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مقدر تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آچکی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11042]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1241، 1242، 4452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25375»
وضاحت: فوائد: … موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا اور ہر ادنی و اعلی اس میں مبتلا ہو کر رہے گا، اسی قانونِ قدرت کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی موت قبول کرنی تھی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1241
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11042 in Urdu