الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
حدیث نمبر: 11095
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فِي رِوَايَةٍ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر منی میں خطبہ ارشاد فرمایا، میں اس وقت اونٹنی کی گردن کے نیچے کھڑا تھا اور وہ انتہائی مطمئن کھڑی جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب مجھ پر گر بھی رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، کسی بھی شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ اسی کی طرف منسوب ہو گا، جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، اس بچے کی ولدیت کا دعویٰ کرنے والا زانی سنگساری کا مستحق ہے اور جس کسی نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اس کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11095]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115، وابن ماجه: 2714، والترمذي: 2121، والنسائي: 6/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18251»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں موجود فقہی اور تفصیل طلب مسائل متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11095 in Urdu