🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11095
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فِي رِوَايَةٍ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر منی میں خطبہ ارشاد فرمایا، میں اس وقت اونٹنی کی گردن کے نیچے کھڑا تھا اور وہ انتہائی مطمئن کھڑی جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب مجھ پر گر بھی رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، کسی بھی شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ اسی کی طرف منسوب ہو گا، جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، اس بچے کی ولدیت کا دعویٰ کرنے والا زانی سنگساری کا مستحق ہے اور جس کسی نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اس کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11095]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115، وابن ماجه: 2714، والترمذي: 2121، والنسائي: 6/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18251»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں موجود فقہی اور تفصیل طلب مسائل متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11096
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي وَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ كَاهِلِ نَاقَتِهِ فَقَالَ وَلَا مَا يُسَاوِي هَذِهِ أَوْ مَا يَزِنُ هَذِهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
۔(دوسری سند) سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: صدقہ کا مال میرے لیے اور میرے اہل بیت کے لیے حلال نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کے کاندھے کے بالوں کا ایک گچھا پکڑ کر فرمایا: بلکہ میرےلیے تو صدقہ میں سے اس مقدار جتنی چیز بھی حلال نہیں اور جس نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ (باقی حدیث، گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔) [الفتح الربانی/حدیث: 11096]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17814»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11097
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ يُعَبِّرُ عَنْهُ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى أَدْخَلْتُ يَدِي بَيْنَ قَدَمِهِ وَشِرَاكِهِ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ بَرَدِهَا
سیدنا عامر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر پر سوار خطبہ دیتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ رنگ کی چادر زیب تن کئے ہوئے تھے، ایک بدری صحابی آپ کے سامنے تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو (بلند آواز میں) دہرا کر لوگوں تک پہنچا رہا تھا۔ میں نے آکر اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم اور تسمے میں داخل کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کی ٹھنڈک سے از حد تعجب ہوا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11097]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 4073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16016»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، جن کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11098
عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ
۔(دوسری سند) سیدنا عامر مزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفید خچر پر سوار تھے اور لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی آواز سن کر اسے دہرا کر لوگوں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطاب پہنچا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11098]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16017»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11099
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى ثُمَّ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مِنْكُمْ فَلَعَلَّ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ يَسْمَعُهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ كَانَ ذَاكَ قَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ مَنْ بُلِّغَهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! بے شک، زمانہ اپنی اسی کیفیت اور ہیئت پر لوٹ آیا ہے، جس کیفیت اور ہیئت پر اللہ نے اسے اس دن بنایا تھا، جس دن اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا، سال کے بارہ مہینے ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ ان میں سے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم متواتر ہیں اور چوتھا مہینہ رجب ہے،جو کہ جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے اور قبیلہ مضر کے لوگ جس کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی نیانام تجویز کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آج یوم النحر (یعنی دس ذوالحجہ والا قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حد تک خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کاکوئی نیا نام تجویز کریں گے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ ذوالحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی نیا نام تجویز کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بلدۂ طیبہ(یعنی پاکیزہ شہر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارے خون، اموال اور عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے آج کے دن کی، اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے، عنقریب تمہاری اپنے رب سے ملاقات ہو گی، وہ تم سے تمہارے کاموں کا محاسبہ کرے گا خبردار تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، خبردار! کیا میں نے اللہ کا دین تم تک پہنچا دیا؟(یا نہیں) خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ عین ممکن ہے کہ براہ راست سننے والے بعض لوگوں کی نسبت وہ لوگ انہیں بہتر طور پر سمجھیں اور یاد رکھیں جن تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ (محمد بن سیرین راویٔ حدیث نے کہا کہ) واقعی ایسا ہوا۔ براہ راست سننے والے بعض لوگوں کی نسبت ان بعض لوگوں نے ان باتوں کو زیادہیاد رکھا جن تک یہ باتیں پہنچیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3197، 4406، 5550، 7078، 7447، ومسلم: 1679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20657»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11100
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ
۔(دوسری سند) یہ حدیث اسی طرح ہی مروی ہے، البتہ اس میں ان الفاظ: تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ کے بعد ہے: جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو جلا یا تو اس نے برے ارادہ سے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چلو، لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ ہے، عبد الرحمن یعنی ابوبکرہ کے بیٹے نے کہا: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ ابوبکرہ نے کہا: اگر وہ لوگ میری طرف آتے تو میں اپنے دفاع کے لیے ان کی طرف ایک سر کنڈے کا بھی اشارہ نہ کرتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11100]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20678»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20678
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11101
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِهِ أَوْ بِخِطَامِهِ فَقَالَ ”أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا؟“ قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ قَالَ ”أَلَيْسَ بِالنَّحْرِ؟“ فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأَوْلَى مِنَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
سیدنا ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منی میں جب دس ذوالحجہ کا دن تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے، ایک آدمی نے اس کی مہار پکڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کونسا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام تجویز فرمائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا: کیایہیوم النحر نہیں ہے؟ اس نے آگے گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 67، ومسلم: 1679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20658»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 67
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11102
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ ”تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟“ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَقَالَ فِيهِ ”أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ“ مَرَّتَيْنِ ”فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ“ مِثْلَهُ ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةَ وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةَ
۔(دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب منی میں دس ذوالحجہ کا دن تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ا س پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے؟ پھر امام احمد کے استاد ہوذہ بن خلیفہ نے امام احمد کے دوسرے استاذ محمد بن ابی عدی کی حدیث کی طرح بیان حدیث کی)، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ دو بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: بسااوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک بات پہنچائی جائے، وہ اسے پہنچانے والے سے بہتر یاد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اونٹنی کو لے کر بکریوں کی طرف تشریف لے گئے اور دو دو تین آدمیوں میں ایک ایک بکری تقسیم کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11102]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20727»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20727
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11103
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟“ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ ”أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟“ قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ ”فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟“ قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ ”إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا“ ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟“ مِرَارًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالیٰ کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11103]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1739، 7079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2036»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلمان کے جان و مال اور عزت و حرمت کاکم از کم اس قدر پاس و لحاظ رکھیں کہ وہ ہماری کسی کاروائی کی وجہ سے متاثر نہیں ہوں، کتنے خوبصورت اور واشگاف انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مختلف سوالات کر کے تمہید باندھی اور پھر بار بار مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حرمت کی وضاحت فرمائی۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مال اور عزت کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عام مسلمان قتل کے جرم سے محفوظ رہتے ہیں، اگرچہ قتل و غارت گری بھی عام ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1739
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11104
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ الزُّجَيْجُ فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزُّجَيْجَ فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهِ أَشْيَاخٌ مُخَضَّبُونَ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ قُلْنَا هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ بَيْتُهُ قَالُوا نَعَمْ صَحِبَهُ وَهَذَاكَ بَيْتُهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَذِنَ لَنَا فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ قُلْتُ أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا أَنَّهُ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قُلْنَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ مَرْحَبًا بِكُمْ مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ قُلْنَا هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِلَى سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ أَوْ يَزِيدَ قَالَ إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدُكُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ“ قَالَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ“ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ“ ذَكَرَ مِرَارًا فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَهُ
عبدالمجید عقیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یزید بن مہلب کے عہد میں حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ العالیہ کے علاقہ میں ایک مقام ہے، جس کا نام الزجیج ہے، ہم مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد الزجیج‘ ‘ پہنچے، ہم نے اپنی سواریوں کو بٹھایا، ہم چل کر ایک کنوئیں پر پہنچے، جہاں بہت سے بزرگ تشریف فرما تھے، انہوں نے اپنی داڑھیوں کو رنگا ہوا تھا، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے، عبدالمجید کہتے ہیں: ہم نے ان سے دریافت کیا کہ یہاںایک صاحب ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا گھر کہا ں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی صحابیٔ رسول ہیں اور یہ ان کا گھر ہے، ہم چل کر ان کے گھر پہنچے، ہم نے انہیں سلام کہا، انہوں نے ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی، وہ کافی بزرگ ہو چکے تھے، لیٹے ہوئے تھے، ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا، میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی وہ بزرگ ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟انہوں نے کہا: جی ہاں، اگر اب رات کا وقت نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کو وہ خط پڑھاتا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے نام تحریر فرمایا تھا، انہوں نے دریافت کیا تم لوگ کون ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم بصرہ سے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا: خوش آمدید،یزید بن مہلب کیا کرتا ہے؟ ہم نے عرض کیا: وہ وہاں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ کہنے لگے، اسے ان سے کیا کام؟ اس کا ان سے کیا تعلق؟ میں نے عرض کیا:پھر ہم کس کا ساتھ دیں، شام والوں کا یایزید کا؟ انھوں نے کہا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر الگ بیٹھ رہو تو کامیاب رہو گے، عبدالمجید نے بتایا: مجھے یاد ہے کہ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی، پھر کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی کی رکابوں میں پاؤں رکھے کھڑے تھے اور بلند آواز سے فرما رہے تھے، لوگو! آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دن حرمت والا دن ہے، یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے، یہ شہر حرمت والا شہر ہے، خبردار! بے شک تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں قیامت تک حرمت ہے، وہ قیامت کے دن تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے اور کہا: اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا،اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بار بار ارشاد فرمائی، مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کتنی مرتبہ کہی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11104]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 18/ 13، والبخاري في التاريخ الكبير: 7/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20602»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں