🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11301
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ“ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً“ أَوْ قَالَ ”أَمْ هَدِيَّةً“ قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہ یا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11301]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2216، 2618،ومسلم: 2056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1703»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2216


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11301 in Urdu