🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11301
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ“ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً“ أَوْ قَالَ ”أَمْ هَدِيَّةً“ قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہ یا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11301]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2216، 2618،ومسلم: 2056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1703»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ لِي ”اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ فَأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُنَّ“ قَالَ فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے سامنے بکھیر لیا۔ پھر دعا فرمائی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کھجوروں کو چمڑے کے تھیلے میں ڈال لو۔ کھجوریں نکالنے کے لیے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر کھجوریں نکالنا اور اسے الٹ کر جھاڑنا نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس تھیلے سے اتنے اتنے وسق (ایک وسق ساٹھ صاع اور ایک صاع تقریباً دو کلو سو گرام ہوتا ہے) اللہ کی راہ میں نکالے۔ہم خود کھاتے بھی اور کھلاتے بھی۔ وہ تھیلا کبھی بھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتا تھا۔مگرجب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ پیش آیا تو وہ میری کمر سے کٹ کر گر گیا (اور گم ہوگیا) [الفتح الربانی/حدیث: 11302]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8613»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ يَنْحَرُونَهَا بَلِ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ ”أَجَلْ“ قَالَ فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ“
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11303]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9447»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11304
ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ (یہ شک اعمش کو ہوا ہے) سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11304]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11096»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11305
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ وَقَالُوا يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا أَوْ رِجَالًا وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَنَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَؤُوهُ وَبَقِيَ مِثْلُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11305]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه النسائي في الكبري: 8793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15528»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11306
عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ فَقَالَ ”أَنَا وَمَنْ مَعِي“ قَالَ فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ قَالَ فَدَخَلَ فَأُتِيَ بِهِ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ ”أَدْخِلْ عَشَرَةً“ قَالَ فَدَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ثُمَّ عَشَرَةٌ ثُمَّ عَشَرَةٌ حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ قَالَ فَأَكَلْنَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نصف مد جو پیسے، پھرگھی کے لیے چمڑے کا بنا ہوا ڈبہ اٹھایا، اس میں تھوڑا ساگھی تھا۔ انہوں نے اس سے دلیہ سا بنایا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔ میں نے عرض کی: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھے بھیجا ہے، وہ آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور میرے ان ساتھیوں کو بھی؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے۔ میں نے گھر جا کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ باہرنکلے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کے ساتھ چلنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صرف دلیہ ہے، جو ام سلیم نے نصف مد جو سے تیار کیاہے (اتنی مقدار تو کھانے کی نہیں ہے کہ اتنے لوگ کھا لیں)۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندرتشریف لائے، وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا اور فرمایا: دس آدمیوںکو اندر بلا لو۔ پس دس آدمیوں نے آکر پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے،پھر دس آدمی آئے، یہاں تک کہ چالیس افراد نے سیر ہو کر کھاناکھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی بچا رہا، پھر ہم گھر والوں نے وہ کھا لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11306]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12519»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11307
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَزَلْ يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الظُّهْرِ يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُوهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ قَالَ أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید (وہ کھانا جس میں روٹی شوربے میں بھگو کر نرم کرکے کھائی جاتی ہے) کا ایک پیالہ پیش کیاگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دیگر لوگوں نے وہ کھایا، ظہر کے وقت تک لوگ کھاناکھاتے رہے، ایک گروہ کھانا کھا کر اٹھ جاتا تو ان کے بعد دوسرا گروہ آجاتا۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیاکھانے میں مزید کھانا شامل کیا جاتا رہا؟ انہوں نے جواب دیا: زمین سے تو شامل نہیں کیا گیا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ آسمان سے اس میں اضافہ کیا جاتا رہا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11307]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20397»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11308
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ دُكَيْنٌ فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ قَالَ شَأْنُكُمْ قَالَ فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً
سیدنادکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار سو چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت میں آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھواور انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے ہاں تو صرف اس قدر کھانا ہے جو میرے لیے اور میری اولاد کے لیے صرف چار ماہ تک کافی ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھواوران کو کھانا دو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! سنا اور اطاعت کی (یعنی آپ کا حکم سر آنکھوں پر)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر بالاخانے کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنی کمر سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ سیدنا دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں کم زور قسم کی کھجور پڑی تھی۔ انہوں نے کہا: تم یہاں سے جس قدر چاہو اٹھا لو، ہم میں سے ہر آدمی نے وہاں سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ گویا ہم نے ان کی کھجوروں میں ایک کھجور بھی کم نہیں کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11308]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه ابوداود: 5238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17719»
وضاحت: فوائد: … فَصِیْل اونٹ اور گائے کے اس بچے کو کہتے ہیں، جس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور رَابِض بیٹھنے والے مقیم بندے کو کہتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد کم زور کھجوریں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11309
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”زَوِّدْهُمْ“ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ وَمَا أَرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ ”انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ“ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ فَقَالَ خُذُوا فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ قَالَ وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قبیلہ بنو مزینہ کے چار سو آدمی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے لوگوں کو حکم دیا۔ بعض لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان کو دینے کے لیے ہمارے پاس کھانا میسر نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو کچھ ہلکی قسم کی کھجور ہے، میرا خیال ہے کہ وہ ان کو کفایت نہیں کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر انہیں دے دو۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ بالا خانے میں لے گئے، وہاں مٹیالے رنگ کی سی کھجور تھی۔ انہوں نے کہا: یہاں سے اٹھا لو۔ لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہم نے ایک کھجور کے برابر بھی جگہ خالی نہیں کی۔ حالانکہ وہاں سے چار سو افراد نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11309]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه البيھقي: 5/ 365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24147»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11310
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَغَدَّى عِنْدَنَا فَافْعَلْ قَالَ فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ فَقَالَ ”وَمَنْ عِنْدِي“ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ”انْهَضُوا“ قَالَ فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَأَنَا لَدَهِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ قَالَ ”هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ“ قَالَتْ نَعَمْ قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ قَالَ ”فَأْتِي بِهَا“ قَالَتْ فَجِئْتُهُ بِهَا فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ“ قَالَ فَقَالَ ”اقْلِبِيهَا“ فَقَلَبْتُهَا فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي قَالَ فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ ”كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو کہ ممکن ہو تو کھانا ہمارے ہاں تناول فرمائیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر یہ پیغام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جو لوگ میرے پاس ہیں وہ؟ میں نے کہہ دیا: جی ہاں وہ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!اٹھو۔ میں نے جا کر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ سے ساری بات کہہ دی۔ مجھے ان لوگوں کا ڈر تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آرہے تھے کہ اتنے لوگوں کو کھانا کیسے کفایت کرے گا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس! تم نے یہ کیا کیا؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریفلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ کے پاس گھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میرے پاس چمڑے کا ایک ڈبہ تھا،اس میں کچھ گھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ڈبہ اٹھا لائیں۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے وہ ڈبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور فرمایا: بسم اللہ، یا اللہ! اس میں خوب برکت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس ڈبے کو پلٹ دو۔ انہوں نے اسے پلٹ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا نام لیتے لیتے اسے اچھی طرح نچوڑا، انہوں نے وہ سارا گھی ہنڈیا میں ڈال دیا۔ اس سے اسی سے زائد آدمیوں نے کھانا کھایااورکافی کھانا بچا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہنڈیا ام سلیم رضی اللہ عنہ کے حوالے کی اور فرمایا: لو تم بھی کھاؤ اور ہمسایوں کو بھی کھلاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11310]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2040، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13581»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں