🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11308
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ دُكَيْنٌ فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ قَالَ شَأْنُكُمْ قَالَ فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً
سیدنادکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار سو چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت میں آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھواور انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے ہاں تو صرف اس قدر کھانا ہے جو میرے لیے اور میری اولاد کے لیے صرف چار ماہ تک کافی ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھواوران کو کھانا دو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! سنا اور اطاعت کی (یعنی آپ کا حکم سر آنکھوں پر)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر بالاخانے کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنی کمر سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ سیدنا دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں کم زور قسم کی کھجور پڑی تھی۔ انہوں نے کہا: تم یہاں سے جس قدر چاہو اٹھا لو، ہم میں سے ہر آدمی نے وہاں سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ گویا ہم نے ان کی کھجوروں میں ایک کھجور بھی کم نہیں کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11308]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه ابوداود: 5238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17719»
وضاحت: فوائد: … فَصِیْل اونٹ اور گائے کے اس بچے کو کہتے ہیں، جس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور رَابِض بیٹھنے والے مقیم بندے کو کہتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد کم زور کھجوریں ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح اخرجه ابوداود: 5238


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11308 in Urdu