الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. فمنهم فاطمة الزهراء رضي الله عنها
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11373
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ ”إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا“ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ”حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا“
علی بن حسین نے بیان کیا کہ جب یہ لوگ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو سیدنا مسور بن مخرمہ نے آکر ان سے ملاقات کی اور کہا: میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں۔ میں نے ان سے کہا:جی کوئی نہیں ہے۔ مسور نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والی تلوار عنایت کر سکتے ہیں؟مجھے اندیشہ ہے کہ اس تلوار کے بارے میں لوگ آپ پر حاوی ہوجائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ وہ تلوار مجھے عنایت فرمائیں گے تو جب تک میں زندہ رہوں گا، اس وقت تک کسی کو نہیں پہنچنے دوں گا، جبکہ تک وہ مجھے ختم نہیں کر دے گا، بے شک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ اس موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سناجبکہ میں ان دنوں بالغ ہو چکا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے بارے میں مشکلات میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد (ابو العاص رضی اللہ عنہ)کا ذکر کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی خوب تعریف کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے میرے ساتھ جو عہد وپیماں کیا اسے پورا کیا، ہاں ہاں میں کسیحلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی دختر اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (یعنی ایک آدمی کی زوجیت میں) کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3110،ومسلم: 2449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19120»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے وضاحت ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس نکاح کو حرام نہیں قرار دے رہے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشانی سے بچانا تھا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3110
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11373 in Urdu