الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. فمنهم فاطمة الزهراء رضي الله عنها
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11374
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ”إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يَنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَهُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”لَا آذَنُ فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا“
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں، میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بات اسے رنجیدہ کرتی ہے، اس سے مجھے بھی رنج ہوتا ہے اور جس بات سے اسے دکھ ہوتا ہے، مجھے بھی اس سے دکھ پہنچتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11374]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5230، 5278،ومسلم: 2449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19134»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5230
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11374 in Urdu