الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1144
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا) )
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12022»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 622
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1144 in Urdu