🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1142
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ (وَفِي لَفْظٍ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ) مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَكَأَنَّمَا وَتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ شَيْبَانُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : يَعْنِي غُلِبَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ترک کر دی، ایک روایت میں ہے: جس سے نمازِ عصر فوت ہو گئی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پس گویا کہ اس کااہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ شیبان کہتے ہیں: یعنی اس کے اہل اور مال پر غلبہ پا لیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 552، ومسلم: 626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4805»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1143
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَفُوتَهُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُهُ) )
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصرچھوڑ دی، یہاں تک کہ وہ اس سے فوت ہو گئی، تو ایسے آدمی کا عمل ضائع کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28040»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1144
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا) )
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12022»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 622
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1145
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ أَنَسٌ) تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہیِ البتہ اس میں ہے: سیدنا انسؓ نے کہا: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ الفاظ تین مرتبہ دوہرائے، آدمی بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12537»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12537
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1146
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے آگاہ نہ کردوں، وہ عصر کی نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑا ہو کر مرغے کی طرح ٹھونگیں لگاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4642، وابن حبان: 260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13624»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4642
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں