🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْر مَنْ تَزَوَّجَهُنَّ أَوْ وَهَبَهُن أَنْفُسَهُنَّ ﷺ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهِنَّ أَوْ وَعَدَ بِزَوَاجِهِنَّ
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11468
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَا مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابٌ لَهُ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ مِنْهُمَا فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اجْلِسُوا“ وَدَخَلَ هُوَ وَقَدْ أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ لَهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَبِي لِي نَفْسَكِ“ قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ قَالَ ”لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ“ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ”يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا“ قَالَ وَقَالَ غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي الْجَوْنِ يُقَالُ لَهَا أَمِينَةُ
سیدنا ابو اسید اور سیدنا سہل رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا ہمارے پاس سے گزر ہوا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک باغ تک گئے جس کا نام الشوط تھا، ہم وہاں دو اور باغوں کے پاس جا پہنچے اور ہم ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ اور آپ آگے چلے گئے، جونیہ خاتون کو امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھر میں لایا گیا تھا، اس کے ہمراہ اس کی ایک دایہ بھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے اورفرمایا: تم اپنے آپ کو میرے لیے ہبہ کر دو۔ اس نے کہا: کیا کوئی ملکہ اپنے آپ کو اپنی رعایا کے لیے ہبہ کرسکتی ہے؟ ساتھ ہی وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس ذات کا نام لے کر پناہ مانگی ہے کہ صرف وہی ذات ایسی ہے جس کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوا سید! تم اسے روئی کے دو سفید کپڑے دے کر اس کو اس کے اہل خانہ کے ہاں پہنچا دو۔ ابو احمد کے علاوہ باقی او ر راویوں نے جونیہ کی بجائے یوں کہا ہے کہ امیمہ بنت نعمان کے گھر میں بنو جون قبیلہ کی امینہ نامی ایک عورت کو لایا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11468]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5255، 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16158»
وضاحت: فوائد: … اس خاتون کے نام میں اختلاف ہے۔ اسمائ، عمیرہ اور امیمہ وغیرہ اس کے نام ذکر کیے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5255


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11468 in Urdu