یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء فى رفقه بهن واهتمامه ﷺ بأمر هن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11484
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ ”إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ تم ازواج کے معاملے نے مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں فکر مند کر رکھا ہے اور تمہاری باتوں کو وہی لوگ برداشت کر سکیں گے جو صبر کرنے والے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11484]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن،اخرجه الترمذي: 3749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24990»
وضاحت: فوائد: … پھر سیدہ عائشہ نے ابو سلمہ سے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو جنت کی سلسبیل سے مشروب پلائے۔ انھوں نے واقعی صلہ رحمی کا ثبوت دیتے ہوئے امہات المؤمنین کو (ایک باغ) دیا، جو چالیس ہزار کا فروخت کیا گیا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11484 in Urdu